ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایم بی بی ایس ،بی ڈی ایس کے لیے ہوئے نیٹ 2017-18کے امتحان منسوخ نہیں ہوں گے:عدالت

ایم بی بی ایس ،بی ڈی ایس کے لیے ہوئے نیٹ 2017-18کے امتحان منسوخ نہیں ہوں گے:عدالت

Sat, 15 Jul 2017 12:54:05    S.O. News Service

 

نئی دہلی،14؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے نیٹ2017کے امتحان کومنسوخ کرنے سے جمعہ انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے میڈیکل اورڈینٹل کورس میں داخلے کے لیے امتحان پاس کرنے والے 6 لاکھ سے زیادہ امیدوار متاثر ہوں گے۔جسٹس دیپک مشرا،جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ایم ایم شانتاناگودر کی تین رکنی بنچ نے کہا کہ نیٹ کے نتیجوں کو روکنا بہت مشکل ہوگا، کیونکہ11.35لاکھ امیدواروں میں سے 6.11لاکھ امیدواروں نے یہ امتحان پاس کیاہے اوران کی کاؤنسلنگ کا عمل جاری ہے۔سپریم کورٹ نے 7 ؍مئی کو ہوئے امتحان کو غلط قرار دے کر دوبارہ امتحان کرانے سے انکارکر دیا۔ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ملک بھر میں چل رہی کاؤنسلنگ پر بھی روک لگانے سے انکار کیاہے ۔کورٹ نے کہاکہ 11.74لاکھ طالب علموں میں سے 6لاکھ طلباء امتحان پاس کر چکے ہیں،ایسے وقت میں کاؤنسلنگ کے عمل میں دخل نہیں دے سکتے۔الگ الگ زبانوں میں الگ الگ سوال نامہ کو لے کر داخل عرضی پر سپریم کورٹ نے سی بی ایس ای اور مرکز کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگا ہے۔سپریم کورٹ 31؍جولائی کو معاملے پر سماعت کرے گا۔7 ؍مئی کو ہوئی نیٹ کے امتحان کو لے کر کئی عرضیاں داخل ہوئی ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ انگریزی، ہندی اور آٹھ دیگر زبانوں میں سوال نامہ الگ الگ دئیے گئے تھے، ایسے میں امتحان کو غلط قرار دے کر دوبارہ امتحان کرانے کی ہدایت دی جائیں۔وہیں مرکز کی طرف سے کہا گیا کہ اب عدالت کو ایسے موقع پر مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، کیونکہ اس سے طلباء کو پریشانی ہوگی۔ویسے بھی ہر زبان میں سوال ناموں میں مشکل سوالات کی سطح ایک جیسی ہی تھی ۔غور طلب ہے کہ کچھ دنوں پہلے ہی سپریم کورٹ نے اس سال کے لیے داخلوں کے لیے کاؤنسلنگ مکمل کرنے کی تاریخ بڑھانے کی منظوری دے دی تھی۔اب ایم بی بی ایس کی کاؤنسلنگ 28؍اگست اوربی ڈی ایس کی کاؤنسلنگ 10؍ستمبر تک مکمل ہوں گی۔سپریم کورٹ نے میڈیکل کونسل آف انڈیا اور ڈینٹل کونسل آف انڈیا کے شیڈول پر مہر لگائی کیونکہ مدراس ہائی کورٹ کے روک لگانے کی وجہ سے رزلٹ میں تاخیر ہوئی تھی۔سماعت کے دوران ایم سی آئی اورڈی سی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ 2016میں سپریم کورٹ نے شیڈول طے کیا تھا۔اسی کے تحت 7 ؍مئی کونیٹ کا امتحان لیا گیا، لیکن اس دوران مدراس ہائی کورٹ کی مدورے بنچ نے رزلٹ پر روک لگا دی۔اس کی وجہ سے یکم جون کو آنے والا رزلٹ رک گیا۔12؍جون کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگائی اور 26؍جون کو رزلٹ کا اعلان کیا گیا۔اس کی وجہ سے کاؤنسلنگ جون کے بجائے 3 ؍جولائی سے شروع ہوئی۔اسی طرح بی ڈی ایس میں بھی یہی دقت آئی ہے۔سپریم کورٹ نے ان دلیلوں کو مانتے ہوئے کاؤنسلنگ کے لیے ایم سی آئی کے دئیے شیڈیول کو منظور کر دیا تھا۔


Share: